ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / سی بی آئی کا اندرونی اختلاف اجاگر، ایجنسی نے بھی کیا قبول

سی بی آئی کا اندرونی اختلاف اجاگر، ایجنسی نے بھی کیا قبول

Sun, 23 Sep 2018 11:43:37    S.O. News Service

نئی دہلی ،23؍ ستمبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) کچھ دنوں قبل میڈیا میں آ رہی خبر کہ مرکزی جانچ بیورو (سی بی آئی) کے سربراہ آلوک ورما اور اسپیشل ڈائریکٹر راکیش استھانہ کے درمیان تنازعہ ایجنسی کے کام کاج کو متاثر کر رہا ہے، کو اب ایجنسی نے قبول کر لیا ہے۔ایجنسی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایک اخبار میں مرکزی ویجلنس کمیشن (سی وی سی) کو دی گئی ایک شکایت پر بحث کی گئی ہے۔ اس کے بعد اس خبر کو بہت سے نیوز چینلوں پر بھی چلایا گیا ہے۔

سی بی آئی کے مطابق یہ ایک بے بنیاد اور جھوٹی خبر ہے۔ اس خبر سے سی بی آئی ڈائریکٹر کیشبیہ خراب کرنے اور ایجنسی کے حکام کو ڈرانے کی کوشش کی گئی ہے۔سی بی آئی نے کہا ہے کہ سی وی سی نے ایجنسی کے خصوصی ڈائریکٹر راکیش استھانہ کی شکایت پر ایجنسی کو خط لکھ کر کچھ فائلیں منگوائی تھیں۔ اس کے جواب میں ایجنسی کے چیف ویجلنس افسر نے کہا کہ شکایت ایجنسی کے ان افسران کو ڈرانے کی کوشش ہورہی ہے جو نصف درجن معاملاتمیں شکایت کنندہ کے کردار کیجانچ کر رہے ہیں۔ لہٰذا سی وی سی کو سب سے پہلے یہ تعین کرنا چاہئے کہ شکایت عدالت میں قابل سماعت ہوگی یا نہیں اور ادارے کی سالمیت کے تحفظ کے لئے اس شکایت کوافسوسناک سمجھا جاناچاہئے۔ایجنسی نے اپنے خط میں کہا ہے کہ آرٹی آئی معاملے کو اچھالتے ہوئے اسے دو بار سپریم کورٹ تک لے جایا گیا ہے، لیکن کورٹ نے اسے مسترد کر دیا۔ ساتھ ہی اس معاملے میں درخواست کنندہ کے پاس اس طرح کی معلومات اور خفیہ کاغذات ہیں جسے رکھنا ایک سنگین جرم ہے۔ساتھ ہی آر ٹی آئی معاملہ میں ملزمان کے خلاف چھاپہ ماری کو روکنے کی بات مکمل طور پر جھوٹ ہے۔معاملہ کی جانچ کے چلتے ہی اس میں کورٹ کے سامنے چارج شیٹ داخل کیا جا سکا ہے۔ قابل ذکر ہے آر ٹی آئی معاملہ بہار کے سابق وزیر اعلی اور راشٹریہ جنتا دل کے صدر لالو پرساد یادو اور ان کے خاندان کے اراکین سے منسلک ہے۔اگرچہ اس سے پہلے سی بی آئی نے کہا تھا کہ ایجنسی کے دو سینئر افسران کے درمیان غلبہ کی لڑائی کی بات مکمل طور پر غلط ہے لیکن اب تو ایجنسی خود اس بات کو قبول کر رہی ہے۔


Share: